News in Urdu

ایل او سی پرخوف کے سائے کب چھٹیں گے؟

Posted on Tuesday, November 29th, 2016 by Online Editor

ایل او سی پرخوف کے سائے کب چھٹیں گے؟

ایل او سی پرخوف کے سائے کب چھٹیں گے؟
شازیہ کیانی، آنلی کشمیر

کشمیر کا لفظ زبان پر آتے ہی محنت ،جفاکشی ،بہادری ایثار و قربانی کا تصور ذہن میں آجاتاہے۔المیہ ےہ ہے کہ کشمیری قوم 7دہائیوں سے آزمائش کا شکار ہے ۔آزادی کا خواب سجائے نوجوان نسل جذبہ حریت لیکر اپنا مستقبل داو¾ پر لگا بیٹھی ہے ۔تقسیم بر صغیر سے قبل کشمیر کی تمام قومیتیں مسلم پنڈت ہندو سکھ عیسائی امن و سکون سے رہتے تھے کوئی مذیبی منافرت نہیں تھی یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر میں مسلم اکثریت میں تھے لیکن اقلیت اور اکثریت کی یہ تفریق خود ساختہ تھی۔ اس وقت کشمیری دنیا کہ ہر خطے میں آباد ہیں۔ بہتر مستقبل کا خواب سجائے کشمیری نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ترک وطنی کی اذےت برادشت کرنے پرمجبور ہے ۔ کشمیر یوں کے محنتی اور جفاکش ہونے کی صداقت اس سے بھی ملتی ہے کہ معمولی عہدے پر جانے والے لوگ کشمیری کلیدی عہدوں پر فائز نظر آتے ہیں ۔کشمیری قوم لیڈرشب میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کی میں اسٹریم لیڈر شب تحریر و تقریر میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہے۔نظرےاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن کشمیری لیڈر شب کی منزل ےعنی” آزادی“ ایک ہی ہے ۔ کشمیر میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جدوجہد آزادی میں آنے والی نئی لہر کے بعد کشمیر کا محاذ گرم ہو گےا ہے ۔سیز فائز لائن پر بسنے والے کشمیری حالت جنگ میں ہیں۔کشمیر ی عوام پاکستان کے سابق صدرجنرل پرویز مشرف کے احسان مند تھے کہ انہوں نے انہیں اس اذےت سے نجات دلائی تھی ۔لیکن اب کیفےت ےہ ہے کہ کنٹرول لائن کے مکین ےا تو بنکروں میں رہنے پر مجبور ہیں ےہ پھر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ بھارتی فوج کی بربرےت کی وجہ سے کنٹرول لائن کے اطراف رہنے والی سول آبادی شدید مثاثر ہے ۔مسافر وین پر گولہ باری اور زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس پر فائزنگ کے واقعات نے ےہ بات ثابت کر دی ہے کہ بھارت جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے ۔ ماضی کا تلخ تجربہ یہی کہتا ہے کہ کشمیر کے نام پر دونوں ممالک کی مفاد پرست حکومتیں اس قضیے کو کسی ایسے حل کیجانب لانے میں مکمل طور پر ناکام ہیں جو کشمیریوں کے لیے قابل قبول ہو اس لیے یہ سمجھ لینا چایئے کہ کشمیرکا قضیہ کشمیریوں کا ہے اور وہی اسکے حل کےلیے کوشش کرئے تو ہی معتبر ہو گی مسئلہ کشمیر کو صنعت بنانے والے کرداروں سے تو کوئی امید رکھی نہیں جا سکتی خونی لکیر کے دونوں اطراف کراس فائرنگ میں ہو یا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کشمیری ہی مرتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ پاک آرمی کے جوان بھی شہید ہوتے ہیں۔بھارت کی انتہا پسند جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کی شر انگیز تقاریر اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن پاکستان کی موجودہ حکومت کو ٹس سے مس نہیں ہوتی ہے۔کنٹرول لاین پر اشتعال انگیزی کے واقعات پر حکومت پاکستان کو بھارتی سفارتی اہلکاروں کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کرنا چاہیے ۔ساتھ ہی بہترین سفارت کاری کے ذریعے دوست ممالک سے بھی بھارت پر دباﺅ دلوانا چاہیے ۔شاید اس طرز عمل سے بھارت کا جارحانہ عزائم کم ہو سکیں ۔کنٹرول لاین پر جاری کشیدہ صورت حال اس بات کی بھی متقاضی ہے کہ دونوں ممالک فوری طور پر جنگ بندی کااعلان کریں تاکہ معصوم کشمیر ی عوام اذےت اور کرب سے باہر نکل سکیں ۔بھارت کے جارحانہ عزائم پاک چین اکنامک کوری ڈور منصوبہ کو ثبوتاژ کرنے کےلئے ہیں ۔بھارت کو ہمالیہ کے پہاڑوںسے بلند پاک چین دوستی ہضم نہیں ہورہی ہے ، اس لئے وہ اوچھی حرکتیںکرتا ہے ،قومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور عینی شاہدین کے مطابق بھارت کے کشمیر کے درےاﺅں کا پانی بھی بند کر دےا ہے تا کہ وہ خشک سالی سے دوچار کشمیر ی اور پاکستانی عوام کو مزید آزمائش میں ڈال سکے ۔پاکستان کے سیاسی سماجی اور سول سوسائٹی کو بھارت کی آبی جارحےت کے خلاف بھی آواز بلند کرنا ہوگی ۔ اگر آزادکشمیر حکومت معاشی طور پر خود کفیل ہوتی تو شاہد وہ کشمیری کا مقدمہ خود لڑسکتی تھی ، لیکن ایک غریب کنبہ کی طرف آزادکشمیر حکومت کے آمدنی آٹھ آنے اور خرچہ روپیہ کے مصداق مسائل کے گرداب سے ہی باہر نہیں نکل پاتی وہ کشمیر کا مقدمہ کیسے اٹھا سکتے ہیں ۔اس سلسلے میں کشمیری لیڈر شب کی بھی کوتاہیےاں ہیں ،۔ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کشمیری مہاجر ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر کا مقدمہ اچھا اٹھاےا ہے لیکن اس پر مزید پیش رفت کی ضرورت ہے ۔ عمران خان ایک مضبوط اپوزیشن لیڈر ہیں گزشتہ دنوں انکی طرف سے اقوام متحدہ کو خط لکھا گیا لیکن یہ خط کافی نہیں عمران خان ایک بین القوامی شہرت یافتہ لیڈر ہے جسطرح وہ دھاندلی کے موقف کو لیکر چل رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ اہم مسئلہ کشمیر ہے ان کا ایک صاف اور واضح موقف مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہونا ضروری ہے اور اس کے لیے مسلسل کیمپین کی ضرورت ہے جو کے نہیں کی جا رہی ہے کیوں کہ مسئلہ کشمیر صرف کشمیریوں کا ہی نہیں بلکہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان حل طلب قضیہ ہے ۔جس کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔کشمیریوں کا خون کیا اتنا ارزاں نہیں کہ اس پر سیاست کی جائے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔پاکستان کی سیاسی قےادت کو اس مسئلہ کو قومی مسئلہ کے طور پر لیکر اس کے حل کے لئے سنجیدہ بنےادوں پر کام کرنا ہوگا،کیونکہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے سے پاکستان کے
کرڑوںعوا م کو خوشحالی نصیب ہوسکتی ہے ۔کشمیر ی عوام سربسجود ہیں کہ ایل او سی پرجاری غیر اعلانیہ جنگ کے بادل کب چھٹیں گے ۔

Discussion

Leave a Reply