News in Spotlight,Urdu

جب شہر خاص میں حول کے قریب خون کی ہولی کھیلی گئی

Posted on Saturday, May 21st, 2016 by Online Editor

جب شہر خاص میں حول کے قریب خون کی ہولی کھیلی گئی

آنلی کشمیر۔۔۔21 مئی 2016
26برس پہلے آج ہی کے دن 21مئی 1990کو وادی کشمیر میں اس وقت قیات صغریٰ بپا ہوئی جب وادی کشمیر کے معروف عالم دین ، عظیم مفکر ، بے داغ سیاستدان ، قلمکار اور ولولہ انگیز واعظ کشمیر مولوی فاروق کوشہید کر دیا گیا، ابھی وادی کشمیر کے لوگ اس غم سے باہر ہی نہیں آئے تھے کہ مرحوم کی جسد خاکی پر مشالی محلہ حول کے قریب اسلامیہ کالج میں تعینات فورسز اہلکاروں نے جلوس میں شامل مرد و زن ، بوڑھے اور بچوں پر اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 70کے قریب سوگوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں کئی ایک زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے ۔ شہید ملت کے جاں بحق ہونے پر پورے عالم اسلام کے لیڈروں نے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا

۔21مئی 1990کو آج ہی کے دن وادی کشمیر میں اس وقت غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی جب شہید ملت میر واعظ کشمیر مولانا محمد فاروق کو گولیاں مار کر جاں بحق کر دیا گیا ۔ وادی کشمیر میں شہید ملت کو جاں بحق کرنے کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی لاکھوں کی تعداد میں لوگ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کی طرف امڑ پڑے تاہم مرحوم مولانا محمد فاروق زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے مرحوم کی جسد خاکی کو عید گاہ مزار شہدا میں سپرد خا ک کرنے کیلئے ایک جلوس کی صورت میں پیش قدمی کی ۔ جونہی جلوس مشالی محلہ حول سرینگر کے قریب پہنچا تو اسلامیہ کالج میں تعینات بی ایس ایف اہلکاروں نے جلوس میں شامل مرد و زن ، بوڑھے اور بچوں پر بندوقوں کے دہانے کھول دئے جس کے نتیجے میں مزید 70کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ سینکڑوں کے قریب سوگوران زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں کئی افراد زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے۔ جلوس میں شامل افراد کو ہلاک کرنے کے بعد وادی میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے آرمی اور کمانڈوز کو تعینات کرکے سخت ترین کرفیو نافذ کیا گیا اس دوران وادی کے اطراف واکناف میں جلسوںجلوسوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا ۔ مشالی محلہ حول کے آس پاس رہائش پذیر لوگ اب بھی اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے کانپ اٹھتے ہیں۔ غلام محمد بابا ساکنہ حول نامی ایک بزرگ شہری نے بتایا کہ جونہی جلوس مشالی محلہ حول کے قریب پہنچا تو اسلامیہ کالج میں تعینات فورسز اہلکاروں نے بندوقوں کے دہانے کھول دئے اور قریب ایک گھنٹے تک گولیاں چلاتے رہے جس کے نتیجے میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوئے ۔ مذکورہ شہری کے مطابق فورسز اہلکارکس کو بھی لاشوں کو اٹھانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے اور اس دوران کئی افراد نے اپنی جانوں پر کھیل کر زخمیوں کو اسپتال پہنچایا تاہم فورسز اہلکاروں نے کئی زخمیوں پر گولیاں چلا کر انہیں موت کی وادی میں پہنچا دیا ۔

مذکورہ شہری کے مطابق فورسز اہلکار پھر گھروںمیں گھس گئے اور اس دوران گھریلو سامان کو تہس نہس کرنے کے علاوہ کئی افراد کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا ۔ شہید ملت کے جاں بحق کرنے کی خبر پھیلتے ہی مرکزی حکومت نے وادی کشمیر کے اکثر و بیشترعلاقوں میں سختی کے ساتھ کئی روز تک کرفیو نافذ کر دیا جس کے نتیجے میں لوگ کئی دنوں تک بھوکے رہنے پر مجبور ہو گئے ۔ مرکزی حکومت نے فوری حرکت میں آکر اسوقت کے گورنر کو واپس بلایا اور معاملے کی تحقیقات کرنے کا یقین دلایا ، تاہم 26 برس گزر جانے کے باوجود بھی سانحہ حول کی تحقیقات کی فائل لاکروں میں دھول چاٹ رہی ہے اور ابھی تک ان اہلکاروں کو سزا نہیں دی گئی جنہوں نے جلوس پر اندھا دھند گولیاں چلاکر 70کے قریب افراد کو موت کی وادی میں پہنچا دیا ۔ شہید ملت مرحوم میر واعظ مولوی محمد فاروق برصغیر کے عظیم مفکر ، عالم دین ، قلمکار ہونے کے ساتھ ساتھ واعظ کشمیر بھی تھے انہوں نے ریاست خاص کر وادی کشمیر میں امن وامان کو قائم کرنے کے سلسلے میں اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا اور لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کے سلسلے میں ہمیشہ اپنی آواز بلند کرتے رہے ۔حول کے قریب جلوس میں شامل لوگوں پر گولیاں چلانے کے بعد کئی دنوں تک سخت کرفیو نافذ کیا گیا تاہم کرفیو ہٹانے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں قریب دو مہینے تک حالات بے قابو ہو گئے شہروں ، گاﺅں اور قصبوںمیں طلبہ و طالبات کی جانب سے جلسے جلوسوں کا انعقا د کیا گیا جس کے دوران قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔

Discussion

Leave a Reply