News in Feature,Urdu

مفتی سعدیہ جسنے کشمیر کے روایتی لباس ‘پھیرن’کو امریکہ میں متعارف کیا

Posted on Saturday, January 16th, 2016 by Online Editor

مفتی سعدیہ جسنے کشمیر کے روایتی لباس ‘پھیرن’کو امریکہ میں متعارف کیا

آنلی کشمیر ۔۔۔ ظہور احمد بٹ۔۔۔۔ بشکریہ یوور اسٹوری

ارادہ پختہ اور حوصلہ بلند ہے تو مقصد کوئی بھی ہو، بہ آسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ کہنا ہے 24 سالہ کشمیری فیشن ڈیزائنر مفتی سعدیہ کا جنہوں نے روایتی کشمیری لباس ‘پھیرن’ کو عالمی سطح پر شناخت دینے کی ٹھان لی ہے۔ ‘پھیرن’ کشمیر کی ثقافت کا ایک اٹوٹ انگ ہے جس کا زیادہ تر استعمال سردیوں کے موسم میں کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا لباس جو انسانی بدن کو گردن سے ٹخنوں تک ڈھانپتا ہے۔ تاہم وادی میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں پھیرن کا استعمال کثریت سے کرتی ہیں۔ کشمیر میں پھیرن ایک مہذب اور شرم و حیا کالباس سمجھا جاتا ہے۔

سعدیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک تجربے کے طور پر اپنے ڈیزائن کئے ہوئے روایتی کشمیری پھیرنوں آن لائن دستیاب کرایا تھا اور انہیں اُس وقت بے انتہا مسرت ہوئی جب انہیں باضابطہ طور پر ملک اور بیرون ملک سے آڈرس موصول ہونے لگے۔ کہتی ہیں ‘جب مجھے امریکہ سے روایتی کشمیری پھیرن کا پہلا آڈر موصول ہوا تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔ اور میری خوشی اُس وقت دوگنی ہوگئی جب پھیرن ملنے پر اُسی امریکی خاتون نے مزید دو پھیرنوں کے لئے آڈر بک کیا۔’

نوجوان فیشن ڈیزائنر سعدیہ جنہوں ایک سال ایک ماہ قبل سری نگر کے مصروف ترین تجارتی مرکز جہانگیر چوک کے نذدیک ‘ہینگرز ۔۔۔دی کلو سیٹ’کے نام سے خواتین کے ملبوسات کا ایک جامع اسٹور کھول کر کاروباری زندگی میں قدم رکھا ہے، کا کہنا ہے ‘میں چاہتی ہوں کہ میرے اسٹور کے بنائے ہوئے کشمیری پھیرنوں کو بین الاقوامی سطح پر شناخت ملے جس کے لئے میں کوشاں ہوں۔ حقیقت بیان کروں تو میرا کشمیری پھیرنوں کو دنیا کے مختلف کونوں تک پہنچانے کا مقصد پیسہ کمانا نہیں ہے ۔ جو پھیرن میں آن لائن فروخت کرتی ہوں اُن میں منافع کی شرح میں نے بہت ہی کم رکھی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ کشمیری پھیرن ایک خوبصورت اور دلکش لباس ہے جس کو کشمیری شال کی طرح بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے کی ضرورت ہے۔’

c

مفتی سعدیہکا کہنا ہے کہ اگر کشمیری پھیرن کو احسن طریقے سے فروغ دیا جائے تو یہ اُن ممالک میں بھی استعمال کیا جانے لگے گا جہاں کا موسم وادی کشمیر سے میل کھاتا ہے۔

‘میں چاہتی ہوں کہ میرے جو ڈیزائنز ہیں وہ ہر ایک عورت کی الماری میں موجود ہینگرز پر آویزاں رہے، بس یہ نام رکھنے کے پیچھے یہی ایک راز ہے۔’ سعدیہ کے اسٹور میں خواتین کے ملبوسات کی کولیکشن میں ڈیزائنر ویئر، نسلیاتی و روایتی کشمیری ڈیزائنزاور سٹولز شامل ہیں۔’

یہ پوچھے جانے پر کہ خواتین کے فیشنی ملبوسات کی اسٹور کھولنے کا خیال اُن کے ذہن میں کب اور کیسے آیا، تو سعدیہ کا جواب تھا ‘گریجویشن مکمل کرنے کے بعد میں نے انٹرنیشنل بزنس میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنا شروع کی جو فی الوقت آخری مرحلے میں ہے۔ اگرچہ پوسٹ گریجویشن کے دوران میں نے نجی سیکٹر میں نوکری اختیار کرلی تھی لیکن میں ہمیشہ خودمختار رہنا چاہتی تھی اور مجھے لگتا تھا کہ میں کسی کے ماتحت کام نہیں کرسکوں گی۔ اپنا خود کا کاروبار شروع کرنے کا جذبہ بھی موجودتھا اور فیشن ڈیزائنگ کا شوق آہستہ آہستہ جنون میں بدل رہا تھا، اور اس خودمختاری، جذبے اور شوق کا ماحاصل ہی ‘ہینگرز دی کلوسیٹ’ ہے۔’

a

سعدیہ جو اپنے اسٹور پر ملک اور بیرون ملک خاص طور پر پاکستان سے درآمد ہونے والے کپڑے کو ملبوسات کی تیاری کے لئے استعمال کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ کشمیری لڑکیوں میں پاکستان سے درآمد ہونے والے کپڑے کو لیکر بڑا کریز ہے۔ کہتی ہیں ‘پاکستان سے ہمارے پاس غیر سلے کپڑے آتے ہیں۔ ہم یہاں بعد میں پاکستانی کپڑے کو اپنے طریقے اور گاہکوں کے آڈرس کے مطابق ڈیزائن کرتے ہیں۔ میں آپ کو ایک نہایت دلچسپ بات بتاتی ہوں کہ کشمیری لڑکیاں پاکستانی کپڑوں کی بڑی دیوانی ہیں۔’

سعدیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے اسٹور ‘ہینگرز ۔۔۔دی کلو سیٹ’ کے پروموشن کے لئے سماجی رابطے کی ویب سائٹوں خاص طور پر فیس بک کا بھرپور استعمال کیا۔ ‘میں نے اخباری اشتہاروں کا بہت کم استعمال کیا کیونکہ وہ اسٹارٹ اپس کے لئے اپنے کاروبار کو فروغ دینے کا ایک مہنگا ذریعہ ہے۔’ یہ پوچھے جانے پر کہ جب انہوں نے ملبوسات کی اسٹور کھولنے کی بات اپنے گھر والوں کے ساتھ اٹھائی تو اُن کا کیسا ردعمل تھا، سعدیہ نے جواب میں کہا ‘حقیقت بیان کروں تو شروعات میں پاپامیراساتھ نہیں دے رہے تھے۔ انہیں لگتا تھا کہ میں الجھن کا شکار ہوں۔ لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انہیں محسوس ہوا کہ بیٹی محنت کررہی ہے تو انہوں نے اپنا بھرپور تعاون دینا شروع کردیا۔اپنے دیگر افراد خانہ کی بات کروں تو اُن کی حمایت شروعات سے ہی مجھے حاصل تھی۔’

b

اپنے مستقل کے منصوبوں اور ارادوں کے بارے میں سعدیہ کہتی ہیں ‘ایک خاتون تاجر کی حیثیت سے میری ایک خواہش ہے کہ میں لڑکیوں کی مدد کروں۔ میں اگلے سال کے مارچ میں الگ سے ایک ٹیلرنگ ڈیپارٹمنٹ کھولنے کا ارادہ رکھتی ہوں جہاں صرف اور صرف لڑکیاں ہی کام کریں گی۔ میں چاہتی ہوں کہ جو لڑکیاں ناخواندہ لیکن باصلاحیت ہیں میرے ذریعے اُن کی مدد ہو۔ میں مستقبل میں جنوبی کشمیر میں ایک اسٹور کھولنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔

Courtesy:  http://urdu.yourstory.com/

Discussion

Leave a Reply