News in Spotlight,Urdu

مہاجر ملت مفسر القرآن مولانا محمد یوسف شاہ ولایت سے وفات تک

Posted on Thursday, June 23rd, 2016 by Online Editor

مہاجر ملت مفسر القرآن مولانا محمد یوسف شاہ ولایت سے وفات تک

محمد عمر بٹ ، آنلی کشمیر
مہاجر ملت مفسر قرآن میرواعظ علامہ محمد یوسف شاہ ؒ کی ولایت ۴۲شعبان المعظم ۳۱۳۱ھ کو سرینگر میں ہوئی۔ آپ کشمیر کے ممتاز ترین عالم دین ، محسن قوم ، سرسید کشمیر میرواعظ رسول شاہ صاحب کے دوسرے فرزند تھے ۔اپنی تعلیم کا آغاز نامور والد میرواعظ رسول شاہؒ سے کیا ۔ مزید حصول علم کےلئے دار العلوم دیوبند یو پی گئے جہاں پر آپ نے شیخ الہند مفتی حسن گنگوویؒ امام العصر محمد کبیر علامہ انور شاہ کشمیر کے علاوہ امام المنطق و الفلسفہ مولانا محمد ابراہیم بلیاوی وغیر سے برابر آٹھ سال تک پورے انہماک ، لگن کے ساتھ اپنی علمی پیاس بجھائے۔ دیوبند سے علوم اسلامیہ کی تکمیل اور سند فراغت حاصل کی وہی پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کی اعلیٰ سند بھی حاصل کی۔ انتہائی سند لے کر وطن عزیز کا رخ کیا جلیل القدر ولمراتب منصب ”میرواعظ کشمیر“ پر فائز ہوئے ۔ مرکزی تاریخی جامع مسجد سرینگر سے باقاعدہ تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا۔ چنانچہ آپ کو قرآن و حدیث اور فقہ و فلسفہ میں کافی دسترس اور مہارت حاصل تھی ۔
چونکہ ۳۱جولائی ۱۳۹۱ءکا سانحہ کشمیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم عنوان بن گیا۔ آپ نے ۴۳۹۱ءمیں تحریک حریت کشمیر کی منظم طور پر چلانے
کےلئے کشمیر کی تمام سرکردہ دینی ، ملی ، سیاسی شخصیتوں اور دانشوروں کا تاریخی میرواعظ منزل پر خصوصی اجتماع طلب کر کے وطن عزیزکے ابتر حالات ، حقوق حصول کے خاطر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کی باقاعدہ داغ بیل ڈالی ۔ مہاجر ملت ؒ کو اس مستند و معتمد فورم کا پہلا متفقہ صدر منتخب کیا گیا۔ میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ ؒ نے نوجوانوں کےلئے جامع مسجد میں مستقل سیاسی پلیٹ فارم مہیا کیا۔ مہاجر ملت ؒ نے انجمن نصرة الاسلام کے تحت چلنے والے مدرسے میں مولوی عالم مولوی فاضل، ادیب ، ادیب عالم، ادیب فاضل، منشی فاضل وغیرہ کے کلاسوں کا اجرا کر کے اس مدرسے کا نام اسلامیہ آرینٹل کالج رکھا۔ آپ نے مستمد علماءسے مل کر ۵۳۹۱ءمیں جمیعت علماءجموں کشمیر کی بنیاد ڈالی۔
مہاجر ملت ؒ جمیعت کے پہلے صدر مقرر کئے گئے ۔ اگر چہ آپ ہمیشہ امن عامتہ ہمدردی ، سلامتی خلق اللہ کے پر جوش داعی تھے وہیں کشمیر میں اتحاد بین المسلمین اور مختلف فرقوں طبقوں کے مابین باہمی اتفاق و روادری کی مہاجر ملت ؒ ہمیشہ ضروری قرار دیتے تھے۔ بلکہ پرزور حمایت کرتے تھے۔ ۶۴۹۱ءمیں مہاجر ملت ؒ قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ باہمی مشاورت کےلئے پاکستان تشریف لے گئے مگر واپسی پر مظفرآباد میں ان کو روک کر کشمیر نہیں آنے دیا گیا اور ساتھ ہی مہاجر ملت ؒ کو Enemy Agentدشمن کا یجنٹ قر دیکر جلاوطن کردیا گیا اور آپ مہاجر ت مجبور کئے گئے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مہاجر ملتؒ کے حامیوں محبوں کے ساتھ ظلم و جبر ، ستم و قہر کا یہ عالم تھا کہ ان کی چن چن کر عذات و عتاب کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ان کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں پہنچائی گئی ۔ حد تو یہ ہے کہ تاریخی میرواعظ منزل جو کہ تحریک حریت کشمیر کا مرکزی دفتر تھا پر تالا چڑھایا گیا اور ساتھ ہی آپ کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی اور جامع مسجد سرینگر کے منبر و محراب کو خاموش کر دیا گیا۔ اگر چہ مہاجرت کے دوران آپ کو آزاد کشمیر حکومت کےلئے صدر بھی بنانے گئے مگر آپ نے غربت ، مسافرت اور غریب الوطنی کی زندگی گزار نا پسند فرمائی ۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری خوبیوں اور صفات سے آراستہ کیا تھا ۔ چونکہ آپ عالم باعمل تھے۔ چنانہ آپ نے زندگی کے کسی بھی محاذ پر بزدلی اور کم ہمتی نہیں دکھائی چاہے وہ ڈوگرہ شاہی دور سے لے کر زندگی کے آخری ایام تک سیاسی وغیر سیاسی سطح پر جہاں بھی آپ آزمائش اور امتحان کی گھڑیوں سے دوچار ہوئے آپ کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ اور دم واپسی تک اپنے سیاسی نظریات ، موقف پر چٹان کی طرح قائم رہے۔
اگر چہ ۷۵۹۱ءمیں آپ نے اپنے خاندان کے اکابر ، بزرگوں و افراد سے ملاقات کےلئے وادی کشمیر آنے کا ارادہ کیا تاہم آپ کو اپنا موقف تبدیل کرنے کےلئے کہا گیا لیکن آپ نے اس سے صاف انکار کیا اور واپس تشریف لے گئے اور اپنے موقف پر قائم رہ کر زندگی گزاری۔ انجمن نصرة الاسلام میں آپ نے خاطر خواہ انتظام کر کے کشمیر میں عربی و فارسی کو فروغ دیا اور انجمن کے تحت متعدد سکولوں کی داغ بیل ڈال کر گراں قدر خدمت انجام دی ۔ چونکہ آپ ”میرواعظ کشمیر “ تھے اسلئے آپ کا بنیادی اصل کام و منصب قرآن و حدیث اور دین اسلام کی دعوت و تبلیغ تھا۔ مہاجر ملت ؒ نے عمر عزیز کے آخری ایام میں کلام اللہ کا کشمیری زبان میں بامحاورہ ترجمہ و تفسیر لکھ کر اپنے مبارک مقصد کی تکمیل کر دی۔ فی الحقیقت مہاجر ملتؒ کا سب س بڑا اور تاابد قائم رہنے والا تاریخی اور عظیم الشان کارنامہ ہے۔ آپ کی تفسیر کی مستند اور معیاری ہونے کی یہ واضح دلیل ہے کہ حکومت سعودی عربیہ نے اس تفسیر کو جدید ، خوبصورت انداز میں شائع کر کے عالم اسلام میں پھیل دیا ہے۔ بہر حال آپ نے ۶۴۹۱ءکو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک اور برطانیہ کے علاوہ مسلم ممالک کا دورہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے پرامن مستقل حل کے حصول کےلئے عالم اسلام اور عالمی برادری کا تعاون حاصل کرنے کی زبردست کوششیں کیں ۔ بہر حال ۴۷ سالہ مصروف ترین زندگی گزار کر ۶۱رمضان امبارک ۸۸۳۱ھ روزہ داری کی حالت میں عین افطار ک وقت مہاجر ملت داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ آپ کا جسد خاکی مظفر آباد میں سپرد خاک کیا گیا ۔

Discussion

Leave a Reply