سعودی سماج میں طلاق ناقابل قبول عمل

349

ریاض، 29جنوری( ہ س)۔
طلاق سعودی سماج میں بہت برا مانا جاتا ہے اور طلاق شدہ مرد اور عورت کو وہاں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ یہ جانکاری میڈیا رپورٹ سے حاصل ہوئی ہے۔
سعودی عرب کے انگریزی روزنامہ ”سعودی گزٹ“ میں شائع ایک مضمون کے مطابق سعودی سماج میں طلاق شدہ مرد اور عورت کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کی جاتی ہیں جو
کہ ان کے حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
خاتون مضمون نگار صہوب بغدادی کا کہنا ہے کہ سعودی سماج کو طلاق شدہ افراد خوصاً طلاق شدہ خاتون کے بارے میں پائی جانے والی سوچ کو بدلنا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ طلاق کا فیصلہ کسی کی شادی شدہ زندگی میں بہت اہم فیصلہ ہوتا ہے کیونکہ طلاق کے بعد طلاق شدہ افراد خصوصاً طلاق شدہ خاتون کو ذہنی، سماجی اور اقتصادی پریشانیوں کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک شادی شدہ خاتون کے سامنے درج ذیل سوال اٹھتے ہیں۔ کیا میں اس شخص کے ساتھ اپنی زندگی گزاردوں جس سے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں؟ یا میں اس شخص سے
اپےتعلقات برقرار رکھوں؟ اس کا جواب سماج میں الگ الگ لوگوں کی جانب سے الگ ہوتا ہے۔



مثال کے طور پر امریکہ میں میرے پڑوس میں ایک سعودی جوڑا رہتا تھا۔ سعودی خاتون کو اس کا شوہر بہت زدوکوب کیا کرتا تھا اور روز ہی اس کی پٹائی کرتا تھا۔ میں اکثر ا س کے بدن پر مارپیٹ کے نشان دیکھتی تھی۔ لیکن اپنے ساتھ کئے جانے والے اس برتاو کو وہ مجھ سے چھپایا کرتی تھی۔
ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ اس کی اس کے شوہر کی جانب سے پٹائی کی وجہ اس کی اپنی غلط ہے۔ مجھے اس کے اس تبصرہ پر غصہ آیا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اس کا ایک چھ ماہ کا حمل اس کے شوہر کی جانب سے اس کے جنسی استحصال کے سبب گرگیا تھا۔ اور یہ اس کا پانچواں حمل تھا جو خراب ہوگیا تھا۔ بعد میں مجھے ایک دوست کے ذریعہ معلوم ہوا کہ اس نے اپنے شوہر کو جو ذہنی مریض تھا نہیں چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا کیونکہ وہ جس خاندان سے تعلق رکھتی تھی اس میں طلاق کو ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ اس طلاق شدہ کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
اس طرح کی سوچ ان شادی شدہ جوڑوں کی زندگی کو تباہ کردینے کا سبب بن رہی ہے جو اپنے ازدواجی رشتہ کو برقرار رکھ پانے کی حالت میں نہیں ہوتے اور اس طرح اس کی زندگی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ میرے خیال میں یہ لوگوں کے تحمل سے متعلق معاملہ ہے۔ کوئی خراب سے خراب حالات میں اپنی شادی شدہ زندگی کو برقرار رکھ سکتا ہے اور کوئی ایسی زندگی سے چھٹکارہ حاصل کرسکتا ہے۔ میں طلاق کی وکالت نہیں کرتی لیکن میں چاہتی ہوں کہ لوگ خوشیوں سے بھری زندگی گزاریں چاہے وہ شادی شدہ ہو یا طلاق کے بعد جب کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کا شریک حیات اس کی جنسی ضرورتوں کو پورا کرنے سے پہلے اس کی ذہنی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے تو اس وقت شادی شدہ تعلقات مضبوط اور خوشیوں سے بھرپور ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ زندگی صرف ایک بار جینے کے لئے دی گئی ہے۔ اس لئے اسے کیوں نہ خوشیوں سے بھرپور بنایا جائے۔