میڈیا کا پروپیگنڈہ اور کٹھوعہ واقعہ پر خاموشی

589
 محمد عمر بٹ
کشمیری عوام کے خلاف ہندوستانی میڈیا کے ایک مخصوص طبقہ کی طرف سے کردار کشی کی دانستہ کوششیں دن بہ دن ایک خطرناک، سنگین صورتحال کو جنم دے رہی ہیں ان متعدد نیوز چینلوں نے کشمیری عوام کے خلاف انتہائی غیر مناسب، جھوٹ پر مبنی پروگراموں، نشریات کا نہ تہمینہ والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔مختلف نیوز چینلوں کی طرف سے سیاسی قائدین طلباء، وکلاء، اہل حق کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروگراموں کو شائع کر کے عوام کو گمراہ کرنے کی پوری کوششیں کی گئے اور جو سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔میڈیا سے وابستہ کچھ خود غرض عناصر انتہائی چالاکی کے ساتھ میڈیا کو امن پسندعوام کے خلاف استعمال کر رہے ہے بلکہ کشمیری عوام کے دلوں کو بری طرح مجروح کرنے کی کوششیں شباب پر ہیں ۔

اگر چہ چند حیوانوں سے بتر انسانی شکل والی ہندو انتہا پسندوں نے کھلم کھلا کشمیری عوام کو ڈرایا دھمکایا اور قتل تک کرنے کی دھمکی بھی دی ،ہندوستانی میڈیا کے ایک مخصوص طبقہ اور انتہا پسندی ذہنیت کے حامی چند زیر خرید ایجنٹ ان ہندو انتہا پسندوں کی صفوں میں کھڑے ہوئے جنہوں نے کھلم کھلا کشمیری عوام کو قتل کرنے کی دھمکی دی ،ان زیر خرید ایجنٹوں نہ صرف صحافت کا قتل کیا بلکہ انسانیت، جمہوریت اور اخلاقی قدروں کو بالائی تاک رکھ کر انتہا پسندوں کا ساتھ دیکر تمام حدیں تجاوز کی، صحافت کے صاف و پاک، انصافی و اصولوں پر مبنی مقدس شعبہ کو اپنے ناپاک عزائم، خود غرضی اور مالی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے چند انتہاپسند سیاستدانوں کے وفادار اور زیر خرید ایجنٹوں نے بے ضمیر، درندوں کی مدد سے سارقانہ طور پر کشمیری عوام کی کردارکشی ،دل شکنی اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی دانستہ حرکت کی ہے ۔چند صحافیوں کی کشمیر کے حوالے سے منفی پروپیگنڈہ اور یہاں کی منفی عکاسی دن بہ دن طول پکڑتا جارہاہے، اگرچہ ماضی کی تلخ حقیقتوں اور تجربوں کو دھیان مدنظر میں رکھ کر یہاں کی من جملہ قیادت نے میڈیا کی کذاب زبانی کو بروقت مسترد کیا اور اپنے شدید ناراضگی درج کی، وہی ریاست جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محترمہ محبوبہ مفتی کے حالیہ بیانات پر میڈیا نے جس طریقہ سے منفی پروپیگنڈہ کر رہا ہے وہ واقعی جمہوری، انسانی اور اخلاقی اقدار کی منافی ہے، حد تو یہ ہے کہ چند زیر خرید ایجنٹوں نے محترمہ محبوبہ مفتی تک کو علیحدگی پسندوں کی حامی قرار دیا ، اب آپ ایسے انتہاپسند ذہنیت کا مظہر قرار دے یا پھر حقیقت سے منہ موڑنا ،اگرچہ میڈیا نے کئی پروگراموں کو نشر،شائع کرکے کھلے عام کشمیری عوام کو دہشت گردوں کی حامی اور امن مخالف قرار دیکر اپنے آقاؤں کی خوش نودی کے لئے مختلف قسمتوں کی لیبل چپسا کیں،مگر حیرت و تعجب لوگوں کو تب ہوا جب ان فتویٰ باز چینلوں نے محترمہ محبوبہ مفتی کوبھی اس لسٹ میں شامل کیا ، انہوں نے محبوبہ مفتی کے خلاف انتہائی توہین آمیز، جھوٹپر مبنی، جھوٹوں کا پلیدی اور حقیقت سے کوسوں دور کی کہانیوں پر مبنی پروگراموں کو نشر ،شائع کرکے غیر مناسب ،غیر اخلاقی اور غیر قانونی زبان استعمال کی،اسطرح سے انہوں نے نہ صرف قابل اعتراض مواد لاکھوں لوگوں کو دکھایا بلکہ وزیر اعلٰی کی کرسی پر براجمان اور ریاست کی قداور خواتین لیڈر محترمہ محبوبہ مفتی کی توہین کی اور بے بنیاد نشریات دیکھا کر غیر قانونی حرکات کے مرتکب ہوئے ہیں۔وہی اگر ہم ریاست جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلباء پر ہوئے حالیہ متعدد قاتلانہ حملوں کے بنیادی محرکات، وجوہات اور اثرات کا سری سری جائزہ لے تو یہ بات منکشف و عیاں ہو جاتے ہیں کہ ان چینلوں کے ڈرامہ باز اینکروں نے ایسے پروگراموں کو شائع کیا جن سے کچھ ایسا ماحول بنا اور ایسے اثرات مرتب ہوئے کہ کشمیری طلباء پر ہندوستان کی متعدد ریاستوں میں قاتلانہ حملے ہوے۔ اگر چہ خواتین کی عصمت ریزی اور انسانی قتل کو دنیا کا سب سے بڑا جرم مانا جاتا ہے اور بلامقابلہ قانون میں درج بھی ہے، مگر شہوت کے عادی اور درندگی کی حدوں کو پار کرنے والے حیوانوں سے بتر مگر انسانی شکل والیروپ میں چند سیاہ کارناموں کے ملک اور درندیں اس گنوانے حرکت و جرم کے مرتکب ہوئے ہیں یعنی کہ دنیا کے سب سے بڑے گناہوں کے مجرم و مشالی سزا کے حقدار ہوئے ہیں، وہ بھی معصوم ننھی، پھول جیسے آٹھ سالہ بچی آصفہ جان کے ساتھ جوکہ کٹھوعہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھتے تھے،ان درندوں نے نہ صرف آصفہ کی عصمت ریزی کی بلکہ تڑپا تڑپا کر بے دردی سے قتل کر کے انسانیت کو اپنے سیاہ کارناموں سے داغدار ،شرمسار کیا ،ان حیوانوں، شیطانی سوچ کے حامل درندوں نے معصوم آصفہ کو کس قدر حیوانیت کے طریقے سے تڑپا تڑپا کر دردناک و ناقابل بیان طریقہ سے قتل کیا شائد ہی اس صدی میں اس وحشی پن، حیوانیت و انسانیت سوز سانحہ،واقعہ کا کوئی ثانی ہو گا ۔اگر چہ پولیس نے ان درندوں کو گرفتار کر کے تحقیقات شروع کردی ہے تاہم چند بدی کی حامل قوتیں جو اپنے مکروہ عزائم و شیطانی خواہشات کی تکمیل کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں چاہیے اسکے لئے انہیں کسی بھی حد سے گزرنا پڑھے پھر چاہیے وہ انسانوں کے قاتلوں یا اس جیسے گنوانے حرکت کے مجرموں کے حق میں احتجاجی ریلی نکالنے کا اہتمام و انتظام کریں ،ان قوتوں کا واحد مقصد اپنے مکروہ عزائم کی تکمیلو سربلندی ہوتا ہے،کٹھوعہ کے چند بے ضمیر، اخلاقی اعتبار سے مردہ، ان ہندو انتہا پسندوں نے معصوم آصفہ کے عصمت دری اور قتل میں ملوث درندوں ،مجرموں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ و ریلی نکال کر ان ذہنی طور معذور، عقل کے اندھوں، اور ضمیر فروشوں نے جمہوری ،انسانی،اخلاقی قدروں کو پیروں تلے روندتے ہوئے انسانیت کو شرمسار کردیا، اس وحشیانہ واقعہ میں ملوثین کی رہائی کے حق میں احتجاج کی قیادت چند ہندو انتہا پسندوں، سیاستدانوں کو ان کی ذہنی اپیچ، ،بدکردار سے ہی تعبیر کیا جا رہا ہے، اور ان کی منافرت و سماج کو بٹھنے والی سیاست کو بری طرح بےنقاب کردیا۔باہر حال تاریخ،دنیا کی اٹلحقیقت ہے کہ باطل زیادہ دیر تک لوگوں کو دھوکہ نہیں دی سکھتا ویسے ہی ان کی جھوٹ پر مبنی نام نہاد صحافت کا طشت ازبام تب ہوا جب کٹھوعہ کی معصوم پھول جیسے آٹھ سالہ بچی آصفہ جان کے سانحہ کی دلدوز و غمناک خبر ملی، حیران کن و تعجب کا مقام ہے کہ اس فتویٰ باز گروہ اور ان چینلوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے اپنے کردار و کشمیر کش پالیسی ، سٹینڈ کو بھری طرح بےنقاب کیا، یہ مفسد گروہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذلیل و رسوا ہوا، کٹھوعہ واقعہ ان کی بدکردار بدکرداری پر انمٹ ثبوت بھی ہے کہ کس قدر یہ طبقہ مالی مراعات، مفادات اور دولت کی فرعونی میں آندھی ہوئے ہیں۔ میڈیا کے حساس، سنگین مسئلہ پر محترمہ محبوبہ مفتی کو انتہائی تدابیر، دانشمندانہ اپروچ اور چند عملی اقدامات اٹھانے چاہیے، چونکہ ہزاروں کشمیری طلباء جو کہ ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں زیر تعلیم ہیں کی زندگی ان پروگراموں، نشریات سے خطرہ میں پڑھتی ہیں، اس حوالے سے حکومت کو چند سخت و عملی اقدامات اٹھا کر ان چینلوں کے خلاف قانونی کارروائی کرانے کی سفارشات کرنے ہو گئے، تاکہ کشمیری طلباء کو امن و امان ،چین و سکون سے تعلیم حاصل کرنےکا موقعہ میسر ہو سکھئے اور یہاں کی نوجوان نسل کو مزید خوف و دہشت سے راحت مل جائے ۔