افسپا ہٹانا کشمیر میں موضوع بحث کیوں بن گیا ہے؟

711

طارق حسین کٹوچ
میگھالیہ سے 27 برسوں کے بعد فوجی دستوں کے خصوصی اختیارات قانون (آرمڑ فورسز سپیشل پاورس ایکٹ یعنی افسپا) کو مکمل طور ہٹانا اور اروناچل پردیش میں اسے مزید محدود کرنے کا حالیہ اعلان کشمیر میں گرما گرم بحث کا موضوع بن گیا ہے – اب ریاست جموں و کشمیر میں افسپا کو لاگو ہویے تقریباً 3 دہائی ہو گیی ہے- بغاوت اور سیاسی شورش کی وجہ سے کشمیر کو افسپا کے اثرات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں – جہاں تک وادی کشمیر کا تعلق ہے، لوگ چاہتے ہیں کہ نیی دہلی ایسی ہی دانشمندی کا اظہار کشمیر میں بھی دکھائے-
کشمیری اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وادی کا حالیہ منظر شورش پسند ہے – کشمیریوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر فقط امن واحد راستہ ہے تو نیی دہلی کو ایسے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں جس سے امن کا ماحول پیدا ہو سکے- پی ڈی پی کے سینئر لیڈر اور وزیر نعیم اختر کا ٹویٹ وادی کے لوگوں کے جزبات کا اختصار ہے- 23 اپریل کو جب نارتھ ایسٹ سے افسپا ہٹانے کی تازہ خبر موصول ہوئی تو اختر نے ٹویٹ کیا-
یہ قابل غور ہے کہ ایک ٹویٹ میں نعیم اختر نے کشمیری عوام نیی دہلی اور پاکستان کو زبردست پیغام بیجھا کہ ہمارے ہمسایہ کو محسوس کرنا ہوگا اور اس کوشش میں مدد کرنی چاہیے –
کشمیریوں کے لیے اعتراف، “ہمیں جے اینڈ کے سے اسے ہٹانے کے لیے سازگار ماحول بنانے کی ضرورت ہے” – کشمیر میں جاری متضاد اور خراب حالات میں یہ باور کرنا بہت ہی سادگی ہوگی کہ نیی دہلی تب تک کوئی مثبت پہل نہیں کرے گی جب تک زمینی سطح پر بہتری نہ آجائے –



نیی دہلی کے لیے پیغام : جمہوریت میں کسی بھی ریاست پر مستقل طور سے ہنگامی قوانین کے تحت حکومت کی جا سکے گی-
کشمیریوں میں ناراضگی ہے کہ 2011 سے 2016 تک جب کشمیر میں قدر امن تھا اور بغاوت بھی معمولی نوعیت کی تھی تو سرکار نے کشمیر میں ایک دلیرانہ پہل شروع کرنے میں قیمتی وقت ضائع کیا- پوری وادی میں فوجی حکومت کے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت میں رہی-
اج کل کشمیری اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے دکھی ہیں کہ زمینی سطح پر موجودہ امن و قانون کی بدنظری دہلی افسپا کو مرحلہ وار تریقہ سے ہٹانے پر بھی غور نہیں کرے گی – ایک عام کشمیری خونی جگھڑے میں، ہر جگہ سپاہیوں کی موجودگی، لگاتار تلاشیوں اور غیروں کے درمیان زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے –
کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے موجودہ وقت میں کشمیر کے حالات یہ اجازت نہیں دیتے کہ افسپا کو ہٹایا جایے –
اور اگر کشمیری عوام افسپا کو ریاست سے ہٹانا چاہتے ہیں تو انہیں سنجیدگی سے کشمیر کے حالات بہتر بنانے کے لیے حکومت اور انتظامیہ کو بھرپور تعاون دینا چاہیے تاکہ کشمیر پھر سے بہتری اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جایے – گزشتہ دہائی سے کشمیر میں کہیں کہیں خطرناک جھگڑے ہویے ہیں جن میں سکولوں اور کالجوں کے طلاب نے بھی شرکت کی-اب سے تقریباً دو سال قبل تک طلاب کی جانب سے سرکار کے خلاف ایجیٹیشن، سنگباری اور گلی کوچوں کی ہڑتال کی شکل میں خطرباک موڑ اختیار کر گیی ہے جہاں قبل تسکین اقدام کرنے کی ضرورت ہے وہیں یہ بات بھی ذہن نشین کربی ہوگی کہ یہ وہ نسل جو بھاری میلیٹری ماحول میں پلی ہویی ہیں – ہمارے بکتربند گاڈیاں اور بندوق ان کی زندگی میں لگاتار گونج رہی ہیں- ایسے بچوں کو ایک ذمہ دار جمہوریت کے ذمہ دار شہری ہونی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے –
کشمیر میں ایک سماجی بیداری پیدا ہونے کی ضرورت ہے کہ یہاں کے لوگ اصل فریق اور انہیں امن لوٹانے کی ذمہ داری لینی ہوگی- اس کے بدلے میں سرکار کو کشمیر سے افسپا لگاتار مرحلہ وار تریقہ سے ہٹانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے – اعتماد سازی کی ابتدائی پہل کے تحت شہری علاقوں کے گنجان آبادی والے علاقوں سے مرحلہ وار طریکہ سے بھاری سیکورٹی ہٹانی ہوگی- کشمیری امن اور وقار کی زندگی کے لیے ترس رہے ہیں – اگر سرکار لوگوں پر اعتماد کرے گی اور انہیں امن اور وقار دے گی جس کے وہ طلب گار ہیں تو آنے والے وقت میں اس کا ثمر دیکھنے کو ملے گا-