ایران میں کشمیرکے تعلق سے ایک روزہ سیمینار کا انقاد

’پاکستانی حکومت عالمی فورمز میں مسئلہ کشمیر کو صحیح انداز میں اٹھانے میں ناکام رہی ہے‘

405

’پاکستانی حکومت عالمی فورمز میں مسئلہ کشمیر کو صحیح انداز میں اٹھانے میں ناکام رہی ہے‘
قم (ایران) / آنلی کشمیر / ایران کے شہر قم المقدس میں کشمیرکے تعلق سے ایک سیمینار ’’کشمیر: دیروز، امروز و فردا‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ سیمینار میں مہمانان خصوصی ڈاکٹر سید عنایت اللہ اندرابی لندن،ر الحاج غلام علی گلزار کشمیر اور علامہ سید افتخار نقوی پاکستان کے علاوہ دیگر سیاسی، سماجی، مذہبی تنظیموں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
آنلی کشمیر کو موصولہ بیان کے مطابق تحریک اتحاد امت جموں و کشمیر کے زیر اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ہندوستان کو کشمیر کے حوالے سے اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے جس کو حل کئے بغیر خطے میں امن کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔ سیمینار سے پاکستان کے سرکردہ عالم دین اور اسلامی نظریانی کونسل کے سربراہ علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ جس بے دردی سے کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے اس سے افواج کی بے رحمی اور سفاکیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن بھارت اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت عالمی فورمز میں مسئلہ کشمیر کو صحیح انداز میں اٹھانے میں ناکام رہی ہے اور کشمیر کمیٹی کا رول مایوس کن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ امن کے ٹھیکیدار بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ کشمیری شہداء کا خون رائیگان نہیں جائے گا اور کامیابی اس قوم کا مقدر ہے جو شہادت کا راستہ اختیار کرتی ہے۔



آنلی کشمیر کو موصولہ بیان کے مطابق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی معروف سیاسی اور سماجی شخصیت غلام علی گلزار نے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ کشمیر میں ہر دین و مذہب کے ماننے والوں کے درمیان گفت و شنید کا باب کھولا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف نظریہ کا جواب گولی سے دینے کی روایت بند ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سب کی بات سننی ہوگی اور مل جل کر کسی منصفانہ راہ حل کی جانب بڑھنا چاہئے۔ غلام علی گلزار نے کہا کہ کشمیری اس مسئلے کے اصل فریق ہیں، پاکستان طبیعی طور پر فریق بن گیا تھا اور بھارت زبردستی فریق بن بیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے تقاضوں کے مطابق نئے انداز سے مسئلہ کشمیر ہر سوچنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم برصغیر سے لیکر اب تک ڈیڑھ لاکھ انسانوں کا خون بہایا گیا ہے اور بھارت کا یہ ظلم تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ کشمیریوں کی آواز سنی جائے اور عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔



سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کے سینئر راہنما ڈاکٹر عنایت اللہ اندرابی نے کہا کہ بھارت سیاسی طور پر کشمیر میں یتیم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ زیادہ دیر برقرار نہیں رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اب ایسے لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جو بھارت کے ساتھ ہاتھ ملائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بھارت کے ساتھ نفرت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور یہاں کے نوجوان گولیوں کا اپنے سینے پر استقبال کرتے ہیں اور ایسی نسل شکست کے مفہوم سے ناآشنا ہوتی ہے۔ ڈاکٹر عنایت اللہ اندرابی نے کہا کہ اب مسئلہ کے حل کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور و فکر کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت نے اس مسئلے کو اجاگر کیا ہے اب سیاسی قیادت کا امتحان ہے۔ عنایت اللہ اندرابی نے کہا کہ عالمی رائے عامہ کو مسئلہ کی سنگینی کی جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے ایک تحریک کا وجود ضروری ہے جو دنیا کے مختلف ممالک میں سیاسی اداروں کے ذریعہ بھارت پر دباؤ بڑھائے۔ سیمینار میں یہ طے پایا گیا کہ مسئلہ کشمیر پر آزادانہ اور بلا خوف گفت و شنید کا دروازہ کھولنے کی ضرورت ہے اور اس فورم پر وقتاً فوقتاً دانشوروں کو دعوت دی جائے گی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنے نظریات اور آراء کا تبادلہ کریں۔
آنلی کشمیر کو موصولہ بیان کے مطابق سیمینار میں کہا گیا کہ رائے عامہ کو مسئلہ کشمیر سے ہم آہنگ کرنے کے لئے عوامی رابطہ کا آغاز کیا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کے حل کو ایک عوامی مطالبے میں بدلنے کے لئے کوششیں تیز کی جائیں گی۔(آنلی کشمیر)