میرواعظ علامہ محمد یوسف شاہ کشمیر کے رہبر و قائد

247

از قلم: محمد عمر بٹ
میرواعظ علامہ محمد یوسف شاہ کشمیر کے رہبر و قائد
از قلم: محمد عمر بٹ
مہاجر ملت میرواعظ علامہ محمد یوسف شاہ ؒ کی ولادیت ۴۲شعبان المعظم ۳۱۳۱ھ کو سرینگر کی تاریخی میرواعظ منزل سرینگر میں ہوئی۔ آپ کشمیر کے ممتاز ترین عالم دین ، محسن قوم ، علمی و ادبی شخصیت ،ماہر تعلیم،
بانی تاریخی و عظیم دانشگاہ اسلامیہ اسکول راجوری کدل سرینگر ( انجمن نصرت اسلام جموں و کشمیر )سرسید کشمیر میرواعظ علامہ رسول شاہ صاحب کے دوسرے فرزند تھے۔ اگر چہ آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز نامور والد میرواعظ علامہ رسول شاہؒ سے کیا۔وہی مزید حصول علم و ادب، تعلیم کےلئے ایشیاءکی عظیم و بڑی دانشگاہ جیسے ازھر ھند کے لقب سے پکارا جاتا ہے دار العلوم دیوبند یو پی گئے جہاں پر آپ نےشیخ الہند علامہ مفتی حسن گنگوویؒ امام العصر محدث کبیر علامہ انور شاہ کشمیری کے علاوہ امام المنطق و الفلسفہ مولانا محمد ابراہیم بلیاوی وغیرہ سے تقریباً ایک دہائی تک پورے انہماک ، لگن ، شوق و زوق ،تجسس و تڑپ کے ساتھ اپنی علمی پیاس بجھائے۔دارالعلوم دیوبند سے علوم اسلامیہ کی تکمیل اور مسند و مستند سند فراغت حاصل کر کے پنجاب کا رخ کیا جہاں آپ نے یونیورسٹی سے مولوی فاضل کی اعلیٰ سند بھی حاصل کی اور اپنی ذہین ہونے پر ایک اور دلیل و ثبوت پیش کیا۔ انتہائی مستند و مسند سند لے کر وطن عزیز کا رخ کیا جلیل القدر ولمراتب منصب ”میرواعظ کشمیر“ پر فائز ہوئے۔ مرکزی تاریخی جامع مسجد سرینگر سے باقاعدہ تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ نے 1925ءمیں ڈوگرہ شاھءمظالم کے خلاف لوگوں میں سیاسی بیداری پھیلانے کے خاطرحکومت کی قہر انگریزی، ظلم و استبداد، اور قوم میں سیاسی شعور کو بیدار کرنے کے خاطر با قاعدہ جدوجھد شروع کی اور اس حصول کے خاطر “خلافت کمیٹی ” کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی۔چونکہ ۳۱جولائی ۱۳۹۱ءکا سانحہ کشمیر کی سیاسی و عصری تاریخ کا ایک اہم عنوان بن گیا۔ آپ نے ۴۳۹۱ءمیں تحریک حریت کشمیر کو منظم و مربوط طور پر چلانے کےلئے جموں و کشمیر کی تمام سرکردہ دینی ، ملی ، سیاسی،سماجی شخصیتوں اور دانشوروں کا تاریخی میرواعظ منزل پر ایک خصوصی اجتماع، اجلاس طلب کر کے قوم کی ابتر حالات ،بےپناہ مظالم، جبر و قہر انگریزی اور ڈوگرہ شاھء مظالم کے خلاف آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کی باقاعدہ داغ بیل ڈالی۔



چنانچہ آپ کشمیر کی ایک واحد ایسی شخصیت تھی جس پر لوگوں کا اعتماد و بھروسہ تھا اسے لئے مہاجر ملت ؒ کو اس مستند و معتمد فورم کا پہلا متفقہ بانی صدر منتخب کیا گیا۔ چونکہ آس زمانے میں مہاجر ملت سے لوگوں کی عقیدت و وابستگی کا یہ عالم تھا بقول شیخ محمد عبداللہ ” اگر مہاجر ملت اس دور میں کسی دریا و ندی و نالے کے پانی کو حرام قرار دیتے تو کشمیر کے مسلمان کیا غیر مسلم بھی پانی پینا چھوڈ دیتے” لوگوں کے بےتحاشا عقیدت و احترام اور آپ کے اسی اثروروسوخ نے مسلمانوں کی سیاسی بیداری کیلے مہمیز کا کام سرانجام دیا۔
آپ نے نوجوانوں کےلئے جامع مسجد میں مستقل سیاسی پلیٹ فارم مہیا کیا ۔ مہاجر ملت نے انجمن نصرة الاسلام کے تحت چلنے والے مدرسے میں مولوی عالم مولوی فاضل،ادیب ، ادیب عالم، ادیب فاضل، منشی فاضل وغیرہ کے کلاسوں کا اجرا کر کے اس مدرسے کا نام اسلامیہ آرینٹل کالج رکھا۔ آپ نے اس میں خاطرخواہ انتظام کرکے کشمیر میں عربی اور فارسی علوم کو فروغ دیا اور اسطرح سے کشمیر میں عالمی و ادبی،ماہر تعلیم، اسکالرز اور سیاسی طور شعور بیدار کرنے والی شخصیات تیار کر کے عظیم ،مثبت اور گراں قدر خدمت انجام دی۔انجمن نصرت اسلام کے تحت میعاری سوچ و فکر ، بالغ نظری کے خاطر درجنوں سکولوں کی داغ بیل ڈالی اور اسطرح سے انجمن کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ھو گیا جو کہ کشمیر کی عصری تاریخ کا ایک اہم و خاص پہلو ہے۔



آپ نے مستند و معتمد علماءکرام سے مل کر ۵۳۹۱ءمیں جمیعت علمائ جموں کشمیر کی بنیاد ڈالی۔مہاجر ملت جمیعت کے پہلے صدر مقرر کئے گئے۔ اگر چہ آپ ہمیشہ امن عامتہ ہمدردی ، سلامتی خلق اللہ کے پر جوش داعی تھے وہیں کشمیر میں اتحاد بین المسلمین اور مختلف فرقوں طبقوں کے مابین باہمی اتفاق و روادری کو مہاجرملت ہمیشہ ضروری قرار دیتے تھے۔
چنانچہ آپ اپنے اسلاف کے عین مطابق ہر وقت، ہمہ تن، ہر طرح غیر مسلیموں کے حقوقوں کی بھی نگھداشت کا درس دیتےرھے۔ بلکہ پرزور حمایت کرتے تھے۔ ۶۴۹۱ءمیں مہاجر ملت بانی پاکستان علی محمد جناح کے ساتھ باہمی مشاورت کےلئے پاکستان تشریف لے گئے مگر واپسی پر مظفرآباد چیک پوسٹ پر ان کو روک کر کشمیر داخلہ پر مکمل پابندی عائد کی گئی اور ساتھ ہی مہاجر ملت کو Enemy Agent دشمن کا یجنٹ قراردیکر جلاوطن کردیا گیا اور آپ مہاجر ت کی زندگی گزارنے پر مجبور کئے گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مہاجر ملت? کے حامیوں محبوں اور جایلوں کے ساتھ ظلم و جبر ، ستم و قہر کا یہ عالم تھا کہ ان کو چن چن کر عذاب و عتاب، انتہائی دردناک ٹارچروں و انٹروگشینوں کا نشانہ بنایا جارہا تھا بلکہ ان کو ذہنی اور جسمانی اذیتیں پہنچائی گئی۔ حد تو یہ ہے کہ تاریخی میرواعظ منزل جو کہ تحریک حریت کشمیر کا مرکزی دفتر تھا پر تالا چڑھایا گیا اور ساتھ ہی آپ کی تمام جائیداد ضبط کر لی گئی اور جامع مسجد سرینگر کے منبر و محراب کو خاموش کر دیا گیا تھا۔ اگر چہ مہاجرت کے دوران آپ کو آزاد جموں و کشمیر حکومت کے صدر بھی بنائے گئے تھے مگر آپ نے سادگی، غربت ، مسافرت اور غریب الوطنی کی زندگی گزار نا پسند فرمائی۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے بہت ساری خوبیوں اور صفات سے آراستہ و نوازا تھا۔ چونکہ آپ عالم باعمل تھے آپ حافظ قرآن ،عابد بھی تھے ،واعظ ،خطیب،مفسر ،مجاہد ،روحانی پیشوا ،قائد اور مفکر اسلام بھی تھے۔ چنانہ آپ نے زندگی کے کسی بھی محاذ پر بزدلی اور کم ہمتی نہیں دکھائی چاہے وہ ڈوگرہ شاہی دور سے لے کر زندگی کے آخری ایام تک سیاسی وغیر سیاسی سطح پر جہاں بھی آپ آزمائش اور امتحان کی گھڑیوں سے دوچار ہوئے آپ کے پائے استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ اور دم واپسی تک اپنے سیاسی نظریات ، موقف پر چٹان کی طرح قائم رہے۔
جس کی پاداش میں اپ کو انتہائی دردناک و تکلیف دہ ٹارچروں و انٹروگشینوں کا نشانہ بنایا گیا جنہیں سن کر روح کانپ جاتی ہے، مگر آپ جیسے مرد قلندر، باہمت، باضمیر، قائدانہ صفات کے مالک ،پامردی کے شہسوار، استقامت و ثابت قدمی کے مجسمہ ،شجاعت و صداقت کے پیکر، مظلوم و محکوم قوم کے قائد نے باطل قوتوں کے مکروہ عزائم کی تکمیل کی سربلندی و ان کے سیاسی موقف کو قبول کرنے سے سراسر انکار کیا اور حقیقی قائدہونے کا عملی نمونہ و ثبوت پیش کیا، اگر چہ ۷۵۹۱ءمیں آپ نے اپنے خاندان کے اکابر ، بزرگوں و افراد سے ملاقات کےلئے وادی کشمیر آنے کا ارادہ کیا تاہم آپ کو اپنا موقف تبدیل کرنے کےلئے کہا گیا لیکن آپ نے اس سے صاف انکار کیا اور واپس تشریف لے گئے اور اپنے سیاسی موقف و نظریات پر قائم رہ کر مہاجر کی زندگی گزارنی کو ترجیح دی۔ چونکہ آپ ”میرواعظ کشمیر “ تھے اسلئے آپ کا بنیادی و اصل کام و منصب قرآن و حدیث اور دین اسلام کی دعوت و تبلیغ تھا۔آپ اس منصب جلیل کے کام کو ہر حال میں انجام دیتے رھے۔بہ تحقیق یہ شرف تاریخ میں بھت کم خاندانوں کو خدا نے بخشا ھے کہ جن کے خاندانوں کے لوگ نسل در نسلیں دعوت دین کا کام کرتے رھے ھے۔اگر چہ دھلی میں خانوادہ شاہ ولی صاحب کو یہ شرف صدیوں تک حاصل رھا ھے۔وہی کشمیر میں میرواعظ خاندان کو یہ شرف حاصل ہے۔جو سلسلہ مسلسل جاری و ساری ہے۔
مہاجر ملت نے عمر عزیز کے آخری ایام میں کلام اللہ کا کشمیری زبان میں بامحاورہ ترجمہ و تفسیر لکھ کر اپنے مبارک مقصد کی تکمیل کر دی۔ فی الحقیقت یہ مہاجر ملت کا سب سے بڑا اور تاابد قائم رہنے والا تاریخی اور عظیم الشان کارنامہ ہے۔بلاشبہ آپ کی تفسیر کی مستند اور معیاری ہونے کی یہ واضح دلیل ہے کہ حکومت سعودی عربیہ نے اس تفسیر کو جدید ، خوبصورت انداز میں شائع کر کے عالم اسلام میں پھیلا دیا ہے۔ جیسے مہاجر ملت نے بے حد عرق ریزی اور جا نفشانی سے راولپنڈی پاکستان میں مرتب فرمایا تھا۔



بہر حال وسیع نظر عالم دین ،مفسر القرآن ،انٹرنیشنل اسلامی اسکالر ، انٹرنیشنل سیاست دان ،بطل حریت ،بطل جلیل ،قائد کشمیر علامہ میرواعظ محمد یوسف شاہ صاحب نے ۶۴۹۱ءکو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک اور برطانیہ کے علاوہ مسلم ممالک کادورہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے پرامن مستقل حل کے حصول کےلئے عالم اسلام اور عالمی برادرای کا تعاون حاصل کرنے کی زبردست کوششیں کیں چنانچہ آپ نے کشمیر کی مخدوش، ناموافق و پر آشوب حالات و واقعات کو بہترین ڈھنگ و طریقہ سے پیش کرنے کا کام سرانجام دیا۔ آپ سماجی برایﺅں کی اصلاح کے ازخود خواہشمند تھے اس سلسلے میں آپ نے کءمثبت اور عملی اقدامات بھی اٹھائے تھے۔الغرض آپ نے شادی بیاہ کی کسی ایسی دعوت میں شمولیت سے احتراز کرتے جھاں لھو ولعب یا اور کسی خلاف شرعی آمر کا ارتکاب کیا جاتا جو آپ کے سماجی قائد ہونے پر مہر و تصدیق کرتا ہے، ۔ بلاشبہ یہ حقیقت منکشف ھو جاتےہیں کہ در حقیقت و کردار اور عمل کے اعتبار سے واقعی نوراسلام ھی تھے۔ چنانچہ اپکو قرآن و حدیث اور فقہ و فلسفہ میں کافی دسترس اور مہارت حاصل تھے۔بہر حال عزم ہمت، اخلاق،مروت کے اس پیکر نے ۴۷ سالہ مصروف ترین زندگی گزار کر 16 رمضان امبارک ۸۸۳۱ھ روزہ داری کی حالت میں عین افطاری کے وقت مہاجر ملت داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ آپ کا جسد خاکی مظفر آباد میں سپرد خاک کیا گیا۔