تحریک آزادی میں اردو زبان و ادب کا کردار

ایک طرف سپاہی بندوق لئے کھڑے تھے اور دوسری طرف صحافی قلم لئے۔ ایک طرف توپیں گرج رہی تھیں اور دوسری طرف اخبار کے صفحات عوام کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے تھے

Advertisement
Advertisement
- Advertisement -

محمدانصارندوی

ہندوستان کی آزادی کی تاریخ اگر صرف معرکوں، محاذوں، قید خانوں اور پھانسی کے تختوں کی تاریخ ہوتی تو شاید اس کے بیان میں اتنی صصوسعت نہ ہوتی۔ آزادی کی یہ داستغان دراصل ہندوستان کے جسم کے ساتھ اس کے ذہن کی بھی داستان ہے؛ یہ تلوار کے ساتھ قلم کی، میدانِ جنگ کے ساتھ میدانِ فکر کی، خون کے ساتھ آنسو کی اور قربانی کے ساتھ شعور کی تاریخ بھی ہے۔ کسی قوم کو سیاسی غلامی سے نجات دلانے کے لئے صرف شمشیر کی ضرورت نہیں ہوتی، اس سے پہلے ذہنوں کو غلامی سے آزاد کرنا پڑتا ہے، دلوں میں حریت کا چراغ روشن کرنا پڑتا ہے، لوگوں کو یہ احساس دلانا پڑتا ہے کہ غلامی کوئی مقدر نہیں بلکہ ایک ایسی حالت ہے جسے عزم، اتحاد اور قربانی سے بدلا جا سکتا ہے۔
ہندوستان کی تاریخِ آزادی میں یہ عظیم فریضہ جس زبان نے نہایت نمایاں طور پر انجام دیا، وہ اردو تھی۔ اردو نے ہندوستان کے مختلف علاقوں، طبقوں اور تہذیبی حلقوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا؛ اس نے سیاسی بیداری پیدا کی، قومی شعور کو مہمیز دی، ہندو مسلم اتحاد کا پیغام عام کیا، سامراجی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی فضا پیدا کی اور اپنی نظم و نثر، صحافت، خطابت اور افسانوی ادب کے ذریعے آزادی کو ایک زندہ جذبے میں تبدیل کر دیا۔
یہاں ایک نہایت اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو نے یہ خدمت کیوں انجام دی؟ اس کا جواب خود اردو کی تاریخ میں پوشیدہ ہے۔ اردو کسی ایک خاندان، ایک طبقے یا ایک مذہبی جماعت کے گھر میں پیدا ہونے والی زبان نہیں؛ یہ ہندوستان کے مختلف لسانی و تہذیبی عناصر کے میل سے وجود میں آئی۔ اس کے الفاظ میں ہندوستان کی مٹی کی خوشبو ہے، اس کے لہجے میں ہندوستانی معاشرے کی مشترکہ آواز ہے اور اس کے ادب میں مختلف تہذیبوں کے تجربات محفوظ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہندوستان پر غلامی کی تاریکی چھائی تو اردو نے اس تاریکی کو محسوس کیا اور جب آزادی کی صبح کی امید پیدا ہوئی تو اردو نے سب سے پہلے اس امید کو زبان دی۔
:- آزادی کا پہلا شعور اور اردو
ہندوستان میں انگریزی اقتدار کے خلاف مزاحمت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ انیسویں صدی میں مختلف مقامات پر جو بغاوتیں اور مزاحمتی تحریکیں اٹھیں، ان میں ایک طرف عملی جدوجہد تھی تو دوسری طرف فکری اضطراب بھی۔ ۱۸۵۷ء کی بغاوت نے اس اضطراب کو ایک بڑے سیاسی طوفان کی صورت عطا کی۔
:- ۱۸۵۷ء ہندوستان کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔
میرٹھ سے شروع ہونے والی بغاوت جب دہلی پہنچی تو مغلیہ سلطنت کے آخری تاج دار بہادر شاہ ظفر کو علامتی طور پر ہندوستانی مزاحمت کا مرکز بنا دیا گیا۔ دہلی اردو تہذیب و ادب کا مرکز تھا اور اس وقت اردو صرف شاعری کی زبان نہیں بلکہ شہری زندگی، سیاسی گفتگو اور صحافت کی بھی ایک اہم زبان بن چکی تھی۔بہادر شاہ ظفر خود شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں شکست خوردہ عہد کا کرب، اجڑے ہوئے وطن کا نوحہ اور بدلتے ہوئے زمانے کی بے ثباتی محسوس ہوتی ہے:
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائدار میں
یہ شعر اگرچہ براہِ راست سیاسی نعرہ نہیں، لیکن اس کے پس منظر میں جو اجڑا ہوا وطن اور شکستہ عہد ہے، وہ ۱۸۵۷ء کے ہندوستان کی اجتماعی کیفیت کا آئینہ بن جاتا ہے۔
۱۸۵۷ء کے بعد برطانوی حکومت نے نہ صرف سیاسی مخالفین کو کچلا بلکہ زبان و قلم کے محاذ کو بھی اپنے اقتدار کے لئے خطرہ سمجھا۔ اردو پریس پر سخت نگرانی ہوئی، متعدد صحافیوں اور اہلِ قلم کو گرفتار کیا گیا اور اخبارات پر پابندیاں عائد کی گئیں۔
یہ اس حقیقت کی پہلی بڑی شہادت تھی کہ حکومت تلوار سے زیادہ قلم سے خوف زدہ ہو سکتی ہے۔
:- مولانا محمد باقر: صحافت کا پہلا شہید
اردو صحافت کی تاریخ میں مولانا محمد باقر کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کا دہلی اردو اخبار ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ خیز زمانے میں برطانوی اقتدار کے خلاف رائے عامہ کی تشکیل میں نمایاں تھا۔ انہوں نے صحافت کو محض خبر رسانی کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے قومی ذمہ داری کا درجہ دیا۔
۱۸۵۷ء کی ناکامی کے بعد مولانا محمد باقر کو انگریز حکومت نے گرفتار کیا اور انہیں موت کی سزا دی گئی۔ یوں اردو صحافت کی تاریخ میں آزادی کا باب ایک ایسے صحافی کے خون سے لکھا گیا جس نے قلم کی قیمت اپنی جان دے کر ادا کی۔
یہ واقعہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ آزادی کی جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جا رہی تھی۔ ایک طرف سپاہی بندوق لئے کھڑے تھے اور دوسری طرف صحافی قلم لئے۔ ایک طرف توپیں گرج رہی تھیں اور دوسری طرف اخبار کے صفحات عوام کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہے تھے۔
:- اردو صحافت: قومی بیداری کا سب سے مؤثر ذریعہ
تحریکِ آزادی میں اردو صحافت کا کردار اس قدر وسیع ہے کہ اس پر مستقل کتاب لکھی جا سکتی ہے۔ اخبارات نے سیاسی واقعات کی اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ عوام کے ذہن کی تربیت کی۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی، عوام کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا، قومی مسائل پر گفتگو کی اور آزادی کے تصور کو عام کیا۔
صحافت کی اصل طاقت یہ ہے کہ وہ ایک خیال کو ہزاروں ذہنوں تک پہنچا دیتی ہے۔ ایک تقریر چند ہزار افراد سنتے ہیں، مگر اخبار ایک ہی دن میں ہزاروں گھروں تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی لئے برطانوی حکومت نے اردو پریس کو بارہا اپنے لئے خطرہ محسوس کیا۔
بیسویں صدی میں اردو صحافت نے آزادی کی تحریک کو نئی قوت عطا کی۔ الہلال، البلاغ، ہمدرد، زمیندار، کامریڈ اور دوسرے اخبارات و رسائل نے سیاسی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
:- مولانا ابوالکلام آزاد اور الہلال
اگر اردو صحافت کی تاریخ میں کسی ایک شخصیت کو فکری انقلاب کی علامت کہا جائے تو مولانا ابوالکلام آزاد کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔
مولانا آزاد کے ہاں قلم محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ دعوت، اصلاح اور انقلاب کا ذریعہ تھا۔ انہوں نے اردو نثر کو خطابت کا جوش، عربی و فارسی علمی روایت کی گہرائی، قرآن کی معنویت اور ہندوستانی قومی زندگی کا درد عطا کیا۔
الہلال کا اجرا محض ایک اخبار کا اجرا نہ تھا؛ یہ ایک فکری تحریک کا آغاز تھا۔ الہلال نے مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کی اور انہیں ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد سے وابستہ ہونے کی دعوت دی۔
مولانا آزاد کی نثر کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ قاری سے محض ذہنی سطح پر گفتگو نہیں کرتی بلکہ اس کے ضمیر کو مخاطب کرتی ہے۔ ان کے جملوں میں خطیب کی گھن گرج، مفکر کی بصیرت، ادیب کی شائستگی اور مجاہد کا عزم ایک ساتھ نظر آتا ہے۔
وہ جانتے تھے کہ غلام قوم کو پہلے اپنی روحانی اور فکری قوت کا احساس دلانا ضروری ہے۔ اسی لئے ان کی تحریروں میں قرآن، تاریخ، سیاست اور قومی زندگی ایک دوسرے سے مربوط دکھائی دیتے ہیں۔
الہلال نے ہندوستانی مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے عہد کے سیاسی واقعات سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتے۔ ہندوستان کی آزادی ان کی بھی آزادی ہے اور وطن کی تعمیر میں ان کی بھی ذمہ داری ہے۔
:- مولانا محمد علی جوہر اور ہمدرد
مولانا محمد علی جوہر صحافت اور سیاست دونوں میدانوں کے مجاہد تھے۔ ان کی شخصیت میں قلم کار، خطیب، شاعر اور سیاسی رہنما ایک ساتھ جمع تھے۔
ان کا اخبار ہمدرد قومی اور سیاسی بیداری کا اہم ترجمان تھا۔ ان کی تحریروں میں سیاسی شعور کے ساتھ ایک خاص قسم کا جوش اور ولولہ پایا جاتا تھا۔ وہ غلامی کو محض سیاسی مسئلہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے قومی عزت اور انسانی وقار کا مسئلہ سمجھتے تھے۔
محمد علی جوہر کی زندگی اس بات کی شہادت ہے کہ آزادی کے لئے صرف تقریر کافی نہیں؛ اس کے لئے قربانی بھی ضروری ہے۔ ان کی پوری زندگی صحافت، سیاست اور قومی جدوجہد کے درمیان گزری۔
:- مولانا ظفر علی خان اور زمیندار
پنجاب کی سرزمین پر اردو صحافت کے سب سے طاقتور ناموں میں مولانا ظفر علی خان کا شمار ہوتا ہے۔ ان کا اخبار زمیندار سیاسی بیداری کا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔
مولانا ظفر علی خان کے ہاں صحافت اور شاعری ایک دوسرے کی مددگار تھیں۔ وہ خبر کو شعر کی قوت دیتے اور شعر کو صحافت کی تاثیر عطا کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں انگریزی اقتدار کے خلاف شدید احتجاج اور قومی آزادی کا ولولہ نمایاں تھا۔
ان کے لئے صحافت روزگار نہیں، مشن تھی۔ اسی لئے ان کا قلم بارہا حکومت کے عتاب کا شکار ہوا، لیکن وہ خاموش نہ ہوئے۔
:- اردو شاعری اور آزادی کا جذبہ
اردو شاعری نے تحریکِ آزادی میں وہ کردار ادا کیا جو شاید کسی دوسری ادبی صنف سے ممکن نہ تھا۔ شعر یاد رہتا ہے، زبان پر چڑھ جاتا ہے اور دل میں اتر جاتا ہے۔ ایک اچھا شعر ہزاروں لوگوں کے جذبات کا ترجمان بن سکتا ہے۔
ہندوستان میں قومی بیداری کے زمانے میں اردو شاعری نے وطن، آزادی، اتحاد، قربانی اور حریت کو اپنے موضوعات میں شامل کیا۔
حالی نے اپنی شاعری کے ذریعے قوم کی اصلاح اور بیداری کی کوشش کی۔ ان کے یہاں قومی زندگی کے مسائل، تعلیم، اخلاق اور اجتماعی زوال کا احساس موجود ہے۔
اکبر الٰہ آبادی نے غلامانہ ذہنیت اور مغربی تہذیب کی اندھی نقالی کو طنز کا نشانہ بنایا۔ ان کا طنز محض تفریح نہیں بلکہ ذہنی غلامی کے خلاف احتجاج تھا۔
علامہ اقبال کی ابتدائی شاعری میں ہندوستانی قومیت اور وطن سے محبت کے جذبات نہایت نمایاں ہیں:
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا
ہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
یہ نظم آج بھی ہندوستان کے قومی حافظے کا حصہ ہے۔ اس میں وطن کو گلستان اور ہندوستانیوں کو اس کے بلبلوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ محض شعری حسن نہیں بلکہ مشترکہ وطنیت کا ایک خوب صورت تصور ہے۔
:- حسرت موہانی: شعر اور انقلاب
حسرت موہانی اردو شاعری اور ہندوستانی سیاست دونوں کے ممتاز کردار تھے۔ ان کی زندگی آزادی کے جذبے کی عملی تفسیر تھی۔
انہوں نے مکمل آزادی کے تصور کو سیاسی سطح پر قوت کے ساتھ پیش کیا۔ ان کا مشہور نعرہ:
انقلاب زندہ باد
بعد کی ہندوستانی سیاسی تاریخ میں ایک مستقل نعرہ بن گیا۔
حسرت موہانی کی شخصیت میں شاعر اور سیاسی مجاہد ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ ان کے لئے شعر بھی جدوجہد تھا اور سیاست بھی۔
:- جوش ملیح آبادی: شاعرِ انقلاب
جوش ملیح آبادی نے اردو شاعری میں حریت اور انقلاب کی جو آگ پیدا کی، اس کی مثال کم ملتی ہے۔ ان کی آواز میں خطابت کی گھن گرج، شاعر کا تخیل اور مجاہد کا ولولہ موجود تھا۔
ان کی شاعری نے نوجوانوں کے دلوں میں حرکت پیدا کی۔ ان کے نزدیک زندگی سکون کا نام نہیں بلکہ مسلسل عمل کا نام تھی۔ اسی لئے ان کے اشعار میں انقلاب، آزادی، خود داری اور حریت کے مضامین بار بار سامنے آتے ہیں۔
:- چکبست اور قومی یکجہتی
پنڈت برج نارائن چکبست اردو کے ان ممتاز شاعروں میں ہیں جنہوں نے ہندوستانی تہذیب اور قومی یکجہتی کو اپنی شاعری میں نمایاں کیا۔
ان کی شاعری اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اردو کسی ایک مذہب کی زبان نہیں۔ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور مختلف تہذیبی پس منظر رکھنے والے لوگوں نے اردو کو اپنے احساسات کی زبان بنایا۔
تحریکِ آزادی کے لئے یہ مشترکہ ادبی روایت غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی، کیونکہ آزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنانے کے لئے ہندوستانیوں کا متحد ہونا ضروری تھا۔
:- ادب اور ہندو مسلم اتحاد
ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا ایک بنیادی اصول قومی اتحاد تھا۔ اگر ہندوستانی عوام مذہب، ذات، زبان اور علاقے کے اختلافات میں بٹ جاتے تو آزادی کی تحریک کمزور ہو جاتی۔
اردو ادب نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی تصویر پیش کی اور یہ احساس پیدا کیا کہ وطن کی محبت مذہبی شناخت سے بالاتر ایک انسانی اور قومی جذبہ ہے۔
اردو ادب کے صفحات پر ہندوستان صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی تجربہ بن کر سامنے آتا ہے۔ گنگا، جمنا، ہمالیہ، بنارس، دہلی، لکھنؤ، دکن، پنجاب اور بنگال—یہ سب اردو کے تہذیبی شعور میں جگہ پاتے ہیں۔
:- پریم چند اور عوامی زندگی
اردو نثر میں پریم چند کا مقام بھی نہایت اہم ہے۔ انہوں نے ہندوستانی زندگی کے عام انسان کو ادب کا موضوع بنایا۔ کسان، مزدور، غریب، عورت، مظلوم اور استحصال کا شکار انسان ان کے افسانوں میں جگہ پاتا ہے۔
ان کے یہاں آزادی کا مفہوم صرف سیاسی اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ معاشرتی انصاف بھی ہے۔ اگر ایک قوم انگریزوں سے آزاد ہو جائے مگر اس کے غریب، کسان اور کمزور لوگ ظلم و استحصال سے آزاد نہ ہوں تو آزادی کا مقصد مکمل نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ پریم چند کی حقیقت نگاری تحریکِ آزادی کے وسیع تر سماجی شعور سے مربوط نظر آتی ہے۔
:- نظم و نثر کا امتیاز
تحریکِ آزادی میں اردو نظم نے جذبات کو بیدار کیا اور نثر نے خیالات کو منظم کیا۔ نظم نے دل کو گرمایا، نثر نے ذہن کو سمجھایا۔ شاعر نے کہا کہ آزادی محبوب ہے، ادیب نے بتایا کہ آزادی کیوں ضروری ہے۔
یہی دونوں قوتیں جب یکجا ہوئیں تو ایک ایسی فکری فضا پیدا ہوئی جس میں سیاسی تحریک عوامی تحریک بن گئی۔
:- اردو اور خواتین کی بیداری
تحریکِ آزادی کے دور میں اردو رسائل اور اخبارات نے خواتین میں بھی سیاسی اور سماجی شعور پیدا کرنے میں حصہ لیا۔ خواتین کے لئے شائع ہونے والے رسائل نے تعلیم، اصلاح، سماجی مسائل اور قومی زندگی پر گفتگو کی۔
خواتین کی بیداری کے بغیر کوئی قومی تحریک مکمل نہیں ہو سکتی۔ اردو ادب نے خواتین کو محض گھر کی چار دیواری تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں قومی زندگی کا فعال حصہ بنانے کے لئے فکری ماحول پیدا کیا۔
:- اردو اور نوجوان نسل
ہر تحریک کا اصل سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں۔ اردو شاعری نے نوجوانوں کے اندر خود اعتمادی، قربانی اور عمل کا جذبہ پیدا کیا۔
اقبال، جوش، حسرت اور دوسرے شعرا کی شاعری نوجوانوں کے لئے محض ادب نہیں بلکہ زندگی کا پیغام تھی۔ اس شاعری میں انہیں یہ سبق ملتا تھا کہ زندگی بزدلی کا نام نہیں، قومیں قربانی سے بنتی ہیں اور آزادی کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
:- تحریکِ خلافت اور اردو
بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں تحریکِ خلافت نے ہندوستان کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا۔ اس تحریک میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور دوسرے رہنماؤں نے اردو زبان و صحافت کے ذریعے وسیع پیمانے پر عوامی رابطہ قائم کیا۔
اردو اخبارات اور خطابات نے تحریکِ خلافت کو ہندوستان کے مختلف علاقوں تک پہنچایا۔ اس تحریک نے مہاتما گاندھی اور مسلم رہنماؤں کے درمیان سیاسی اشتراک کی ایک صورت بھی پیدا کی۔
یہ دور ہندو مسلم اتحاد کے اعتبار سے ہندوستانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اردو نے اس اتحاد کے لئے فکری اور ابلاغی پل کا کام کیا۔
:- گاندھی اور اردو
مہاتما گاندھی نے ہندوستانی قومی تحریک میں عوامی زبان اور عوامی رابطے کو غیر معمولی اہمیت دی۔ اردو اور ہندی کے مشترکہ لسانی ماحول نے شمالی ہندوستان میں سیاسی پیغام کو عوام تک پہنچانے میں مدد دی۔
گاندھی کے سیاسی فلسفے میں عدم تشدد، ستیہ گرہ، قربانی اور عوامی شرکت بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ اردو ادب اور صحافت نے ان تحریکوں کے پیغام کو عام کرنے میں بھی حصہ لیا۔
یوں اردو نے صرف ایک طبقے کی تحریک کو نہیں بلکہ وسیع ہندوستانی قومی تحریک کو اپنی زبان اور اپنے ادب کے ذریعے آواز دی۔
:- مولانا آزاد: اردوزبان، سیاست اور قوم
مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت تحریکِ آزادی میں اردو کے کردار کی سب سے جامع مثال ہے۔ وہ شاعر بھی تھے، ادیب بھی، صحافی بھی، خطیب بھی اور سیاست دان بھی۔
ان کے یہاں اردو زبان ایک وسیلہ نہیں بلکہ ایک فکری دنیا ہے۔ وہ تاریخ سے استدلال کرتے ہیں، مذہب سے اخلاقی قوت لیتے ہیں، ادب سے حسنِ بیان حاصل کرتے ہیں اور سیاست سے عملی مقصد متعین کرتے ہیں۔
ان کی نثر میں ایک جگہ ایسی آتی ہے جہاں محسوس ہوتا ہے کہ مصنف قلم نہیں چلا رہا بلکہ پوری قوم کے دل پر دستک دے رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مولانا آزاد کی تحریروں کو پڑھتے ہوئے قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا، وہ ایک خاص قسم کی روحانی اور قومی کیفیت سے گزرتا ہے۔
:- آزادی کی تحریک اور ادیب کی ذمہ داری
تحریکِ آزادی نے اردو ادیب کے سامنے ایک بنیادی سوال رکھا: ادیب کا فرض کیا ہے؟
کیا وہ صرف حسن و عشق کی داستانیں لکھے؟
کیا وہ صرف ماضی کے قصے بیان کرے؟
کیا وہ اپنے زمانے کے ظلم و جبر سے آنکھیں بند کر لے؟
اردو کے بڑے ادیبوں نے اس سوال کا جواب اپنے عمل سے دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب قوم غلام ہو تو ادب کو بھی اس غلامی کا احساس ہونا چاہیے۔ جب وطن میں ظلم ہو تو قلم کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ جب قوم سو رہی ہو تو ادیب کا فرض ہے کہ اسے جگائے۔
یہی ادب کی سماجی ذمہ داری ہے۔
:- اردو ادب اور ذہنی آزادی
سیاسی آزادی سے پہلے ذہنی آزادی ضروری ہے۔ جو قوم ذہنی طور پر غلام ہو، وہ آزادی حاصل کرکے بھی غلامی کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکتی۔
اردو ادب نے ذہنی غلامی کے خلاف بھی جنگ لڑی۔ اس نے ہندوستانیوں کو ان کی تاریخ یاد دلائی، ان کے ماضی کے کارنامے سامنے رکھے، خود اعتمادی پیدا کی اور انہیں یہ یقین دلایا کہ وہ اپنی تقدیر خود لکھ سکتے ہیں۔
اس اعتبار سے اردو ادب کا کردار محض سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی تھا۔
:- قلم اور تلوار
تاریخ کے بڑے انقلابوں میں تلوار اور قلم دونوں کا حصہ ہوتا ہے۔ تلوار دشمن کے جسم پر اثر انداز ہوتی ہے، قلم دشمن کے اقتدار کے جواز کو چیلنج کرتا ہے۔
تلوار ایک جنگ جیت سکتی ہے، قلم نسلوں کو بدل سکتا ہے۔
تلوار کی فتح وقتی ہو سکتی ہے، قلم کی فتح دیرپا ہوتی ہے۔
ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں دونوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ میدان میں جان دینے والوں کے ساتھ وہ لوگ بھی مجاہد تھے جنہوں نے سچ لکھنے کی پاداش میں قید کاٹی، اخبار بند کروایا، جرمانے سہے اور اپنی آزادی تک قربان کر دی۔
:- اردو ادب کا مجموعی تاریخی مقام
اگر تحریکِ آزادی کے مختلف مراحل کو ایک لڑی میں پرویا جائے تو اردو کا کردار ہر جگہ نمایاں دکھائی دیتا ہے:
۱۸۵۷ء میں اردو صحافت مزاحمت کی آواز بنی۔
بعد کے زمانے میں اردو ادب نے شکست خوردہ قوم کو فکری سمت دی۔
بیسویں صدی میں اردو اخبارات نے سیاسی شعور عام کیا۔
الہلال اور البلاغ نے مسلمانوں کو قومی تحریک سے جوڑا۔
ہمدرد اور زمیندار نے سیاسی بیداری کو فروغ دیا۔
حسرت نے انقلاب کا نعرہ بلند کیا۔
اقبال نے خودی، عمل اور وطنیت کا پیغام دیا۔
جوش نے حریت اور انقلاب کی آگ بھڑکائی۔
چکبست نے مشترکہ تہذیب اور قومی اتحاد کو شعری اظہار دیا۔
پریم چند نے عوامی زندگی اور سماجی انصاف کے مسائل کو ادب کا موضوع بنایا۔
اور مولانا آزاد نے اردو نثر کو قومی جدوجہد کی بلند ترین خطیبانہ آواز عطا کی۔
یہ سب مل کر اردو کے اس تاریخی کردار کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔
تحریکِ آزادی کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے اگر اردو زبان و ادب کو نظر انداز کیا جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی عظیم عمارت کا ذکر کرتے ہوئے اس کی بنیاد کا ذکر نہ کیا جائے۔
آزادی کی جدوجہد میں کسی نے تلوار اٹھائی، کسی نے جیل کاٹی، کسی نے ًپھانسی کا پھندا چوما، کسی نے بھوک ہڑتال کی، کسی نے اپنا گھر بار چھوڑا؛ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا۔
اس نے لوگوں کو بتایا کہ غلامی ذلت ہے۔
اس نے بتایا کہ آزادی نعمت ہے۔
اس نے بتایا کہ وطن صرف مٹی نہیں، ایک زندہ احساس ہے۔
اس نے بتایا کہ ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دوسرے ہندوستانی مل کر ایک مشترکہ وطن کی تعمیر کر سکتے ہیں۔
اس نے مایوس دلوں میں امید پیدا کی اور خوف زدہ ذہنوں میں حوصلہ۔
یہی اردو ادب کی سب سے بڑی خدمت ہے۔
اردو کے صحافیوں نے قلم سے جہاد کیا، شاعروں نے اشعار سے دلوں میں آگ روشن کی، ادیبوں نے نثر کے ذریعے شعور بیدار کیا اور خطیبوں نے اپنے الفاظ سے قوم کو حرکت دی۔اس لئے ہندوستان کی آزادی کی تاریخ صرف جیلوں، جلسوں، جلوسوں اور میدانوں کی تاریخ نہیں؛ یہ اخبار کے کالم، شاعر کے شعر، ادیب کے افسانے، خطیب کی تقریر اور قاری کے بیدار ہوتے ہوئے ضمیر کی تاریخ بھی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں اردو زبان و ادب ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں محض ایک زبان یا ادبی وسیلہ نہیں رہتا بلکہ قومی بیداری کا ترجمان، آزادی کا نقیب اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کا زندہ استعارہ بن جاتا ہے۔
آج جب ہم آزادی کا جشن مناتے ہیں تو ہمیں صرف ان لوگوں کو یاد نہیں کرنا چاہیے جنہوں نے بندوق اٹھائی تھی؛ ہمیں ان لوگوں کو بھی یاد کرنا چاہیے جنہوں نے قلم اٹھایا تھا۔ کیونکہ بندوق نے میدان میں جنگ لڑی تھی، مگر قلم نے انسان کے اندر جنگ لڑی تھی۔
اور تاریخ کا فیصلہ یہی ہے کہ جس قوم کے اندر آزادی کی جنگ زندہ ہو جائے، اسے غلام رکھنا کسی سلطنت کے لئے ہمیشہ ممکن نہیں رہتا۔
اردو نے ہندوستان کے دل میں یہی جنگ زندہ رکھی۔
اسی لئے ہندوستان کی آزادی کی داستان میں اردو کا ذکر ایک حاشیہ نہیں، ایک مستقل باب ہے؛ ایسا باب جس کے بغیر تاریخ کا متن مکمل نہیں ہوتا۔

Our Social Networks

join our wHATSAPP CHANNEL

Advertisement

Latest

Advertisement

Related Articles

Advertisement